اساطیری اسلوب کا اول و آخر افق: محمد اظہار الحق
مصنف: رحمان فارس
اشاعت: سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ، 09 اگست، 2026
صاحبو! کسی بھی زبان کے ادب میں ایک دو چونکا دینے والی تخلیقات نکال لینا تخلیق کار کی نِری خوش قسمتی بھی ہوسکتی ہے،حُسنِ اتفاق بھی۔ ویسے بھی اُردوغزل کافی سخی ہے۔ برسوں کی ریاضت میں دو ڈھائی اشعار تقریباً سب کو مل ہی جاتے ہیں۔ غزل بھرعطا ہوجائے توکیا ہی بات ہو! مسلسل عالی سخنی کم کم کو نصیب ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی زبان کے ادب میں نابغۂ روزگار کی واضح ترین نشانی اور روشن ترین اعلان اُس کا اسلوب ساز ہونا ہے۔ صدیوں پرانی شعری روایت میں ایک بالکل نیا، انوکھا، نرالا، نادراور نویکلا اسلوب متعارف کروانا کششِ ثقل کی دریافت سے کم نہیں اور یہ کام محمّد اظہارالحق کے حصّے میں آیا ہے۔
فقر اُن کا خاصۂ طبعی ہے اور برسوں مناصبِ عالی پر براجمان رہنے کے باوجود اُجلے پوشی سے گزارہ اُن کی پہچان۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اظہارالحق ہوں اور بےپناہ سنجیدہ فکر اورازحد فطین نہ ہوں۔ صاحب! آپ کو اظہارالحق ہونا ہے توکم ازکم اتنا تو ہونا پڑے گا۔ موصوف بڑے کلے ٹھلے کے آدمی ہیں۔ گیہواں رنگ، مختصرسی خوش نُما داڑھی، چشمے کے عقب سےچمکتی آنکھیں۔ مذہب،ادب، تاریخ، سیاست، کسی گھربند نہیں ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے، انہوں نے شہرِ دانائی کے چاروں کھونٹ داب رکھے ہیں۔
اُن کا گھرانہ بہت علمی ہے، مذہبی حوالے سے بھی اورادبی حوالے سے بھی۔ والد ظہور احمد ظہور بھی فارسی و اُردو کے صاحبِ دیوان شاعر اور اُستاد تھے۔ دادا اپنے زمانے کے عالم تھے اور فتح جنگ کےعلاقےیعنی پوٹھوہاری خطّے میں اُنہیں ’’سعدئ دوراں‘‘ کہا جاتا تھا۔ اظہار صاحب نے ڈھاکا یونی ورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ پھر والد ہی کی تحریک پرعربی اور فارسی میں بھی ماسٹرز کیا۔ نصاب کے طور پر پڑھنے کی بجائے عربی و فارسی ادب کوازحد ذوق و شوق سے پڑھا۔
سو، اُن کی شعری روایت کا تاج محل بہت مضبوط بنیادوں پر اُستوار ہے۔ ان کا شعری اندازایسا مختلف و منفرد ہےکہ لاکھوں میں نظرآئے۔ اصل تویہ ہیں اوراصل کی نقل بنانے میں بہت لوگ سامنے آجاتے ہیں۔ موصوف کےاساطیری اسلوب کی بھی کاپی بہت سوں نے کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ سب اظہار صاحب کا تعلیمی و ادبی بیک گراؤنڈ اور عربی و فارسی ادب سے کشید کردہ چاشنی کہاں سے لاتے؟
قرطبہ وغرناطہ اور سمرقند و بخارا، اسپ و فیل اور رزم و بزم، جشنِ مئے انگور اور شامِ سرور، دربارِ شاہ اور چراغِ راہ، حکایتِ حرب اور ضابطۂ ضرب، وضع داری کے ترانے اور ملن ساری کے فسانے اور بہت کچھ ایسا کہ جو کیفیت میں تو سمو سکتا ہے، الفاظ میں نہیں۔ لُطف وحیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں اظہار صاحب کی اپنی ذات، شخصیت، کردار اور زندگی کرنے کے سبھاؤ میں بھی بدرجۂ اتم ظاہر ہیں۔ اظہار صاحب کے شخصی اظہار کا بنیادی ترین مظہرانسانیت ہے۔ ہرانسان کے ساتھ بطورِانسان مساوی سلوک۔ حضرت کے نزدیک قدرومنزلت کا معیاردُنیاوی جاہ وحشم یا مسند ومرتبہ یا منصب وعہدہ نہیں بلکہ علم و فضل ہے۔ موصوف ایک عالِم سے جس خندہ پیشانی سے ملتےہیں، ویسے بڑے بڑے بےعلمےطُرّم خانوں سےنہیں ملتے۔
ناچیز نےاظہار صاحب کی شخصیت کے حوالےسے شکیل جاذب سے گفتگو کی کہ جو ہمارے برادرِعزیز اور شاعرِ دل پذیر ہیں۔ انہوں نےکچھ دل چسپ واقعات بتائے۔ کہتے ہیں۔ ’’اظہار صاحب سے میری پہلی ملاقات گوجرانوالہ کے ایک مشاعرے میں ہوئی۔ تابش صاحب نے تعارف کروایا اور بتایا کہ یہ آپ ہی کی آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس کے ہیں اور شعر کہتے ہیں۔ اظہار صاحب نے کہا، اچھا ٹھیک ہے اور کوئی خاص توجّہ نہیں دی لیکن مشاعرے کے اختتام پر خُود تلاش کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور گلے لگا کر کہنے لگے کہ یار معذرت چاہتا ہوں، جب تابش نے تعارف کروایا کہ یہ شاعر ہےاورافسربھی، تو مَیں نےسوچا کہ افسر جس طرح کے شاعر ہوتے ہیں، یہ بھی اُسی طرح کا ہوگا، لیکن تم تو واقعی شاعر ہو۔‘‘شکیل بھائی مزید بتاتے ہیں کہ ’’یادش بخیر مَیں اُس وقت نوکری کے پہلے ہی پائےدان پر تھا، یعنی جونئیر ترین۔
اظہار صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ اب میرا اور تمہارا رابطہ افسراورماتحت والا نہیں ہوگا، اب ہم دوست ہیں۔ اوربعد میں اُنہوں نے یہ بات ثابت کی۔ وہ اُس وقت ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل تھے اور میری پوسٹل اکاؤنٹس میں پہلی پوسٹنگ تھی۔ اُنہوں نےحُکم دیا کہ تم اب جب بھی پنڈی آؤ، مجھ سے لازماً ملنا ہے۔ مَیں کچھ عرصے بعد بچّوں کےساتھ مَری گیا۔ یارِعزیزعامرعباس بھی میرے ساتھ تھا۔ مَیں نے جانے سے پہلے اظہار صاحب کو بتا دیا کہ فلاں تاریخ کو مَری جارہا ہوں، فلاں کو واپسی ہوگی اور واپسی پر آپ کے ہاں چکر لگاؤں گا۔
سچی بات ہےکہ مَیں بھول گیا۔ جس دن واپسی کا پروگرام تھا، مجھے اظہار صاحب کا فون آیا۔ کہنےلگے۔ میاں! آج تمہیں مَری سے واپس آنا ہے۔ سو، چائے تمہیں میرے ساتھ پینی ہے اور بچّوں کو بھی لے کر آنا ہے۔ میرے لیے بڑا حیران کُن تھا کہ اکیسویں گریڈ کا ایک افسر سترہ گریڈ کے ایک جونیئر کی بات کو اتنے دن گزرجانے کے بعد بھی یاد رکھے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے اُن کی وضع داری کمال ہے۔ اور یہی وضع داری اُنہوں نے ایک سینئر کی بجائے ایک دوست کی طرح نبھائی، حالاں کہ اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ بہت سخت افسر تھے اور قوانین و ضوابط کےحوالےسےکسی بھی لچک کے روادارنہیں تھے۔
رعب کا یہ عالم تھا کہ اُن کے کمرے کے سامنے سے کوئی گزرتا نہیں تھا۔ بعد میں اُن کی براہِ راست ماتحتی میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ اُس دوران بھی انہوں نے مجھے ایک ماتحت افسر کی بجائے ایک عزیزدوست اور قابلِ شفقت برخوردار ہی سمجھا۔ ہاں دفترکا decorum قائم رکھنے کےعادی تھے اور دفتری اوقات میں ہم اُنہیں کبھی ان کےموبائل یابراہِ راست نمبر پر کال نہیں کر سکتے تھے۔ دفتر کے بعد گپ شپ بھی لگتی تھی، ہلکا پھلکا مذاق بھی ہوتا تھا۔یہ اُن کی شخصیت کا بہت دل چسپ پہلو ہے کہ اُنہوں نے ذاتی و سرکاری پہلوؤں کو ہمیشہ الگ رکھا اور اس حد تک الگ رکھا کہ ایک روزمجھے بُلوا کر نصیحت کی کہ کوشش کرنا تمہارے شاعر ہونے کا محکمے میں کسی کو پتا نہ چلے۔
مَیں نے عرض کیا کہ سر! یہ بات تو ہاتھ سے نکل چُکی ہے، کیوں کہ کتاب بھی شائع ہوچُکی، مشاعرے بھی پڑھ رہا ہوں، محکمے میں اور شاعر بھی ہیں، جو جانتے ہیں کہ مَیں شاعر ہوں، جیسا کہ مبارک شاہ، ڈاکٹر وحید احمد، اشرف سلیم، نوید مرزا وغیرہ۔ خیر، اُنہوں نےخودبھی اس بات کا بھرپورخیال رکھا۔ ایک بار ملٹری اکاؤنٹس کےایک جلسےمیں برائے تقریرکھڑے ہوئے تو سامعین میں سے کسی نے اُٹھ کر اُن کا ایک شعر پڑھ دیا، جس پر انہوں نے اُسے ڈانٹ دیا کہ تم مشاعرے میں نہیں ہو، یہ سرکاری جلسہ ہے۔‘‘
اظہارصاحب کا شعری قامت وقد بلاشبہ عصرِحاضر میں نمایاں ترین ہے۔ شعری تہذیب، شاعر کی قدروقیمت اور اقدارِ سخن کی پاس داری کے ہمیشہ قائل رہے۔ کبھی کسی نے سرِراہ یا چلتے پِھرتے، اُٹھتے بیٹھتے یونہی کسی مختصر سی ملاقات میں شعر کی فرمائش کی توباقاعدہ خفا ہوجاتے ہیں کہ صاحب! شاعر کوئی ٹیپ ریکارڈر تھوڑی ہےکہ بٹن دبائیے تو شروع ہوجائے۔ شاعری کے لیے باقاعدہ ماحول ہونا چاہیے، مشاعرہ ہو یا باقاعدہ شعری نشست ہو۔ شاعری اور شاعر کی اہمیت و حیثیت کے معاملے میں بہت سنجیدہ بھی ہیں بلکہ زُودرنج ہی کہہ لیجے۔ جہاں انہیں شعری مقام ومرتبےمیں ہلکی سی بھی ہیرپھیریا ہچرمچر محسوس ہو، خاموشی سے اُٹھ آتے ہیں اور دوبارہ اُس طرف رُخ نہیں کرتے۔
موصوف عصرِحاضر کے اُن معدودے چند لوگوں میں سے ہیں کہ جوشعری انا اور عزتِ نفس کو کسی بھی دوسری چیز کے مقابلے میں ہمیشہ افضل گردانتے ہیں۔ آج کل مشاعروں کی اوٹ میں جو نفسانفسی، مارا ماری، دھکم پیل، گھونسا مُکی کا دَور ہے، محمّد اظہارالحق اصلاحِ احوال کےلیےنسلِ نَو کےرول ماڈل ہونےچاہئیں۔ورنہ آج کل کچھ ڈوم ڈھاڑی، جس طرح دھڑی دھڑی کر کے مشاعرہ گاہ کی اقدار لوٹ کھسوٹ رہے ہیں، عین ممکن ہے، برس دوبرس میں یہ ککھ ہوچُکے۔ ہر منقارِزیرِ پر اب ہزار داستان ہے۔
ایسے میں اظہار صاحب کا دَم غنیمت ہے۔ وفاداری اُن کی سرشت میں گُندھی ہے، تو تہذیب و تپاک اُن کی فطرتِ سلیمہ کا حصّہ ہے۔ گھر میں ان کا رویہ بزرگوں، اہلِ خانہ اور بچّوں کے ساتھ مثالی ہے۔ ان کے والدِ گرامی ماشااللہ نوّے برس سے اوپر تھے، جب وفات پائی اور اُنہوں نے اپنے والد کی کمال خدمت کی۔ یہ امرِ واقعہ ہے کہ اظہار صاحب کسی ملازم سے والد کی خدمت یا کام نہیں کرواتے تھے۔ تب بائیس گریڈ میں تھے، جب اُن کے والد چل پِھرنہیں سکتے تھے۔
تب یہ اُن کے کھانے پینے، کپڑے بدلوانے، حتٰی کہ واش روم تک لے جانے، لانے کے سب کام خُود سرانجام دیتے۔ فرماتے کہ اگر تمہارے ماں باپ حیات ہیں، تو اُن کی خدمت کرو، کیوں کہ تمہارے بچّےاگر تمہیں اپنے والدین کی خدمت کرتےدیکھیں گے، تب ہی کل تمہاری خدمت کریں گے۔ اُن کی اولاد یقیناً اِسی لیے بہت سعادت مند ہے۔ دو بیٹیاں اور تین بیٹے اُن پر جان چھڑکتے ہیں۔
حسّان بن اظہارسول سروس میں میرےہم شعبہ اورمجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں۔ اُن کے توسّط سے مجھ تک کچھ واقعات ہمشیرۂ حسّان یعنی مرَضیّہ کی زبانی پہنچے۔ ایک واقعہ اظہارصاحب کے اپنے چھوٹے بھائی یعنی حسّان کے چچا کو ڈرائیونگ سکھانےکاہے۔ ڈرائیونگ تو فی سبیل اللہ سِکھادی، مگر بعد میں مُحلّے کےگلی کوچوں کے دوچار کونوں نُکڑوں پر اپنے (خفیہ مگر مستقل) ہرکارے تعینات کیے کہ برادرِخُرد یہاں سے ڈرائیو کرتے ہوئے گزریں تو اُن کی ڈرائیونگ کی کوالٹی کا بے لاگ اور تفصیلی تجزیہ کرکے فوری ہیڈ کوارٹر تک ارسال کیا جاوے۔
ایک اور واقعہ اظہارصاحب کےسنگاپورسفر کا ہے، جس میں اُن کے ہم راہ و ہم رکاب اُن کے رفیق پروفیسر اظہر تھے۔ دونوں کے ناموں میں محض حرف بھر کا فرق ہے کہ اظہر کو ’’اکو الف درکار‘‘ ہے، اظہار بن جانےکےلیے۔ ناموں کی اس حد تک مماثلت شخصیات پر بھی اثراندازتھی۔ اظہار صاحب کو بخار نے آلیا تو اظہر صاحب تیماردارِ خصوصی ٹھہرے۔ یہ صاحبِ فراش تو اُنہیں درماں کی تلاش۔ یہ تھوڑے علیل تو وہ صحت و شفا کی سبیل۔
اِدھر اظہار کو اصرار کہ بیگم کو بتایا جائے، اُدھر اظہر کی تکرار کہ بھابھی سے چُھپایا جائے کہ بےسبب پریشان ہوں گی۔ آخرمیں اظہار کی خواہشِ اظہار، اظہر کی خواہشِ اخفا پر بازی لےگئی اور یُوں بھابھی تک علالت کی خبرپہنچ ہی گئی۔ ارے بھئی، کیوں نہ پہنچتی، ایک اور روایت کےذریعے (کہ راوی جس کی بارِدگر مرَضیّہ ہی ہیں) ہم تک اظہار صاحب کی محبّت کی داستان پہنچی کہ ایک بار بیگم کو خوابِ خوش رنگ سے محض یہ پوچھنے کے لیے بےدار کیا کہ ’’بیگم! کیا مَیں سموسہ کھا سکتا ہوں؟‘‘ صاحبو! بڑا تخلیق کاراپنی پُرکاری میں بھی سادہ اور نابغہ،اپنی فطانت میں بھی معصوم ہوتا ہے۔ سو،اظہارصاحب بھی ہیں۔ ایک اور پُرلطف قصّہ بھی سُن لیجے۔
والدین کی عادات کے حوالےسے بچّے بڑے تجزیہ نگارہوتے ہیں توایک بات جو حسّان و مرضیہ نےسال ہا سال کے مشاہدے سے اخذ کی، وہ یہ تھی کہ سرما میں ابو ہرسال مہینے بھرکےلیے(جو بعد میں خبر ہوئی کہ سالانہ تعطیل کا دورانیہ ہے) محض ایک کام یک سوئی، تسلسل اورمکمل محویت کے ساتھ کرتے اور وہ تھا، بان کے تانے بانے سے بُنی ’’منجی‘‘ پربُنیان پہنےدن بھر دھوپ سینکنا۔ ظاہراً خاموش و خوابیدہ مگر یقیناً تخلیقِ سخن کی آنچ میں تپیدہ۔
شاعری میں حد درجہ کمال اپنی جگہ، مگر نثر میں بھی اُن کا اسلوب کمال ہے۔ نوائے وقت میں ’’تلخ نوائی‘‘ کے نام سے ان کا کالم آغاز ہی سےآج کل کے بڑے بڑے کالم نگاروں کے لیے ایک درس کی حیثیت اختیارکرگیا۔ معروف کالم نگاران جاوید چوہدری اور ہارون الرشید کالم نگاری میں باقاعدہ اُن کے شاگرد رہے ہیں۔ سوانحِ عُمری میں اپنی زندگی، خاندان اور باقی تمام پہلوؤں کو بہت بےتکلفی سے بیان کیا ہے۔ اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے اٍن کا قلبی و جذباتی تعلق دیدنی ہے۔
یہ تعلق گفتگو میں بھی ظاہر ہے، شاعری میں بھی۔ ایک حیران کُن امریہ ہےکہ گھر میں اپنےبیٹے بیٹیوں حتیٰ کہ اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ پوٹھوہاری زبان (تلہ گنگ اور فتح جنگ والی)بولتے ہیں اور وہ سب پوٹھوہاری ہی میں جواب دیتے ہیں۔ کسی کےمسلک و مشرب کے حوالے سے اُس کو Judge نہیں کرتے۔ سو، اُن کےحلقۂ احباب میں رندان و مےخواربھی ہیں اور زاہدانِ تہجّد گزار بھی۔ شاعروں کو محض اُن کی شاعری پر پرکھتے ہیں۔
موصوف کا ہر شعری مجموعہ کلامِ عالی سے لبالب ہے۔ دیوارِ آب (آدم جی ادبی انعام، 1982ء)، غدر (1986ء)، پری زاد (1995ء)، پانی پہ بچھا تخت (علامہ اقبال ایوارڈ، 2003ء)، کئی موسم گزرگئےمجھ پر(پہلےچارمجموعوں کاکلیات، 2012ء)، اور اےآسماں نیچے اُتر (2023ء) میں شائع ہوا۔ صاحبانِ فکر بھی اُن کے اشعار گنگناتے پھرتے ہیں اور نسلِ نَوکے لاکھوں عاشقین شعر بھی عاشقینِ اظہار ہیں۔
ان کی شاعری کے انگریزی تراجم معروف شاعرہ یاسمین حمید کی تدوین وترجمہ کردہ انتخاب Pakistani Urdu Verse (آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس، 2010ء) میں شامل ہیں۔ 2025ء میں ان کی خودنوشت کاپہلا حصّہ ’’بکھری ہےمیری داستاں‘‘ شائع ہوا، جس میں مشرقی پاکستان کے طالبِ علمی کے ایّام اور دیہی زندگی کی ابتدائی یادیں دل آویز انداز میں محفوظ ہیں۔
ڈاکٹر اعجازحسین نے اسے تہذیبی و تاریخی اہمیت کی حامل تصنیف قرار دیتے ہوئے اسے اُس نسل کے اجتماعی تجربے کی آئینہ دار کتاب کہا، جو مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں سے گزر کر منصۂ شہود پر آئی۔ ہمارے اظہار صاحب مختلف اخبارات سے بطور کالم نگار وابستہ رہے ہیں۔ معروف کالم نگار و تجزیہ نگاررؤف کلاسرا نے ’’تلخ نوائی‘‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’اردو، انگریزی اور فارسی کے کلاسیکی ادب پر اظہار الحق کی یک ساں مہارت ان کے کالموں کو غیرمعمولی فکری و ادبی وقار عطا کرتی ہے۔‘‘
اظہار صاحب نے قومی زبان اتھارٹی کے ساتھ پاکستان میں اردو کےنفاذ کی تحقیقی کاوشوں میں بھرپور حصّہ لیا، قومی انگریزی اردو لغت کے مرتّبین میں شامل رہے اور پاکستان اکادمیِ ادبیات کے تعاون سے پاکستانی ادب کےسالانہ انتخاب کی تدوین میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ اردو زبان و ادب اور شاعری کے لیے نمایاں خدمات کےاعتراف میں حکومتِ پاکستان نے اُنہیں تمغۂ حُسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے 2008ء میں نوازا، جب کہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، اسلام آباد نے 2017ء میں، اُن کی ادبی خدمات کےاعتراف میں اپنی ایک لائبریری کو ’’گوشۂ اظہار‘‘ کا نام دیا۔
ٹی ایس ایلیٹ نے اسٹائل یعنی اسلوب کو ’’بند گلی‘‘ کہا تھا۔ محمد اظہارالحق نے اُردو زبان و ادب کو وہ اسلوب دیا ہے، جو اس بند گلی سےاُڑان بھرکےغرناطہ و قرطبہ کی پُراسرارگلیوں اور بغداد کے روشن کُوچوں سے ہوتا ہوا مسندِ ادبِ عالیہ پر براجمان ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انگور کا رس تھا، نہ غزالوں کے پرے تھے
اس بار بھی مَیں جشن میں تاخیر سے پہنچا