اساطیری اسلوب کا اول و آخر افق: محمد اظہار الحق
مصنف: رحمان فارس - محمد اظہار الحق مصنف: رحمان فارس اشاعت: سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ، 09 اگست، 2026 صاحبو! کسی بھی زبان کے ادب میں ایک دو چونکا دینے والی تخلیقات نکال لینا تخلیق کار کی نِری خوش قسمتی بھی ہوسکتی ہے،حُسنِ اتفاق بھی۔ ویسے بھی اُردوغزل کافی سخی ہے۔ برسوں کی ریاضت میں دو ڈھائی اشعار تقریباً سب کو مل ہی جاتے ہیں۔ غزل بھرعطا ہوجائے توکیا ہی بات ہو! مسلسل عالی سخنی کم کم کو نصیب ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی زبان کے ادب میں نابغۂ روزگار کی واضح ترین نشانی اور روشن ترین اعلان اُس کا اسلوب ساز ہونا ہے۔ صدیوں پرانی شعری روایت میں ایک بالکل نیا، انوکھا، نرالا، نادراور نویکلا اسلوب متعارف کروانا کششِ ثقل کی دریافت سے کم نہیں اور یہ کام محمّد اظہارالحق کے حصّے میں آیا ہے۔ فقر اُن کا خاصۂ طبعی ہے اور برسوں مناصبِ عالی پر براجمان رہنے کے باوجود اُجلے پوشی سے گزارہ اُن کی پہچان۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اظہارالحق ہوں اور بےپناہ سنجیدہ فکر اورازحد فطین نہ ہوں۔ صاحب! آپ کو اظہارالحق ہونا ہے توکم ازکم اتنا تو ہونا پڑے گا۔ موصوف بڑے کلے ٹھلے کے آدمی ہ...